Skip to main content

اقوالِ رچمائند

          نصیحتیں                                        



۱۔جو کچھ تو چاہتا ہے خود کو اس لائق بنالے اور اپنے کو اس لائق مت سمجھ جب تک کہ وہ چیز تجھ کو نہ پوکارے۔


۲۔ دنیاں میں ہر چیز ہمیں کچھ نہ کچھ سبق د یتی ہے۔ خواہ اس کا لینے والا ہو یا نہ ہو۔


۳۔ہمیں چاہیے کہ اپنی کمیوں کو ڈھونڈھ  ڈھونڈھ کر درست کریں۔ایک دن کمیاں ہی نظر نہیں آئینگی۔


۴۔ کسی سے  صلاح لینا غلط نہیں ہے بلکہ اس صلاح پر غوروفکر کئے بغیر عمل کرنا گمراہی ہے۔ 


۵۔ گفتگو میں لفظِ میں کا استعمال کم کیا جائے تو عزّت ہے۔


۶۔ کسی چیز کو سیکھ لینا کمال نہیں ہے بلکہ اس چیز کو برقرار رکھنا کمال ہے۔


۷۔ جو شخص اپنے علم کا استعمال نہیں کرتا اس کی مثال بالکل اس آدمی کی طرح ہے جس کے پاس کوئی علم نہیں۔


۸۔ علم کا جتنا استعمال کیا جائے اتنا ہی چمکتا ہے۔جس طرح پیتل کو جتنا گھسا جائے اتنی ہی چمکتی ہے۔


۹۔تعلیم زندگی کی ضرورت ہے۔


۱۰۔ اپنی قسمت کا لقمہ اٹھاکر کھانا پڑتا ہے۔


۱۱۔ وہ لوگ عموماً عقل مند ہوتے ہیں جو احمق سےنظر آتے ہیں۔


۱۲۔ ہر کامیابی کے پیچھے کوئی نہ کوئی راز ہوتا ہے۔


۱۳۔ محنت کے مقابلہ میں حقمت سے زیادہ کمایا جاسکتا ہے۔


۱۴۔ کامیاب ہونے کیلئے کڑی محنت، سچّی لگن، بھرپور ہمّت اور لگاتار کوششوں کی ضرورت پڑ تی ہے۔


۱۵۔ ایک عاشق اپنے معشوقہ سے جس قدر عشق کرتا ہے اگر اس قدر عشق وہ تعلیم سے کرنے لگےتو کوئی بھی مقابلہ یا امتحان ایسا نہیں ہوگا جس میں وہ کامیابی حاصل نہ   کرسکے۔


۱۶۔ احساسِ کمتری میں آدمی خود کو بیکار کر لیتا ہے۔


۱۷۔ عقل مند وہی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ کر تا رہتا ہے، کسی چیز کو کرنے کے لئے الگ 

سے وقت نہیں ملتا۔


۱۸۔ پہلے اپنے زمانۂ حال کے اعمال کو درست کرو، پھر موقع ملنے پر ماضی کی کمیوں کی اصلاح کرو اس 

طرح مستقبل خود بخود سنور جائے گا۔


۱۹۔ جو کچھ تم حاصل کرو اسے عمل میں لاؤ ورنہ اس کا حاصل کرنا وقت کو ضائع کرنا ہے۔


۲۰۔ جب آپ پخته اراده اور پوری دل جمعی کے ساتھ کسی کام کو انجام دینا شروع کرتے ہیں تو حالات 

دھیرے دھیرے خود آپ کے معافق ہو جاتا ہے۔


۲۱۔ ہر اگلا دن مستقبل ہوتا ہے۔اس لئے ہر اگلے دن کو اپنے گزرے ہوئے دن کے مقابلے  میں بہتر بناؤ۔


۲۲۔ تمہارے زندگی کے بہترین اوقات وہ ہیں جو عبادت یا علم حاصل کرنے میں صرف ہوں۔


۲۳۔ کوشش کرو کہ تمہارا جو بھی قدم اٹھے یا تو علم حاصل کرنے  کے لئے ہو یا عبادت کے لئے۔ 


۲۴۔ ہر کام کرنے سے پہلے خود سے ایک سوال پوچھو "کیوں" اس سے مقصد کا پتہ چلتا ہے۔


۲۵۔ چار حالتوں میں پڑھائی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے: تھکان، کمزوری، بیماری اور بےچینی کی حالت میں۔


۲۶۔ دیکھنا سوچنے کو جنم دیتا ہے اور سوچنا عمل کو۔


۲۷۔ جس شخص میں سیکھنے کی استعداد ختم ہو جاتی ہے وہ کسی کی بات نہیں سنتا۔


۲۸۔ تین چیزوں کو میں نے  دنیا میں سب سے اچھا پایا: علم ، عبادت اور محبت۔





Comments

Popular posts from this blog

انسان پیار کا بھوکا ہوتا ہے

   ہر  انسان پیار کا بھوکا ہوتا ہے۔ جب تک لوگ پیار دیتے ہیں اور محبت سے پیش آتے ہیں دوستی مضبوط تر  ہوتی جاتی ہے  لیکن جب لوگ سیاست کرنا شروع کر دیتے ہیں تو دوستی بہت ہی کمزور اور نازک ہو جاتی ہے۔اب اسمیں صرف مقصد باقی رہ جاتا ہے، پیار کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور اسے دوستی نہیں مقصد پرستی کہتے ہیں۔

محبت کا امتحان

جب ہم اللہ سے محبت کرتےہیں تو اللہ اپنی محبت کا امتحان بھی لیتاہے۔روکاوٹیں اس کثرت سے آتی ہیں کہ ہمارا اللہ کی طرف متوجہ ہونا مشکل ترین ہوجاتا ہے۔ اور اگر ہم کامیاب ہوتے ہو تو ایک پرسکون زندگی جینے کا لطف حاصل کرینگے۔ اللہ سے محبت نہ کرنے والوں کیلئے کوئی امتحان نہیں ہے ۔وہ دنیا کی الجھن میں پریشان رہتے ہیں۔کچھ دیر کے لئے کوئی چیز  سکون دیگی اور پھر چلی جائیگی۔اور وہ ہمیشہ کسی نہ کسی چیز یا شخص کیلئے بیقرار اور بےچین رہےگا۔ یہ میری اپنی رائے ہے۔ آپ کے تجربات اس سے مختلف ہو سکتے ہیں۔

دنیاں میرے اندر

ایک دنیا ہے جس میں ہم رہتے ہیں اور دوسری دنیا ہے جو ہم میں رہتی ہے۔ دنیا دل لگانےکی جگہ نہیں ہے بلکہ استعمال کرنے کی جگہ ہے۔حصول دنیا جیسے ہی ضرورت سے زیادہ آ جاتی ہے اور  ہمارے اندر سمانے لگتی ہے اور ہم محو ہو جاتے ہیں۔اسکی مثال ایسے ہے۔ جیسے کشتی پانی میں۔جب تک کشتی پانی میں ہے تب تک وہ وقت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی ہے اور جیسے ہی پانی کشتی میں آجاتا ہے وہیں نیست و نابود ہو جاتی ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ ہم عام حالتوں میں تو اللہ سے غافل رہتے  ہی ہیں اور نماز کی حالت میں بھی اللہ کی یاد سے غافل ہو جاتے ہیں جبکہ مسجد میں تو کوئی دنیا سامنے نہیں ہوتی ہے۔وہ دنیا جو ہمارے دل و دماغ میں سما جاتی ہےبڑی ہی خطرناک دنیا ہے۔ اللہ اس سے ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین