وہ عالم الغیب ہے۔ اس کو پہلے ہی اس بات کا علم ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ اب سنو میرے ساتھ ہوا واقعہ۔کافی دنوں کے بعداس بار میرے ٹفن میں کچھ حصہ بچ گیا تھاجو میں نہیں کھاتا ۔ اور وہ ضائع ہو جاتا۔مجھے کچھ خبر نہیں تھی کہ اس کا کیا کرنا ہے۔ جیسےہی دروازہ کھولتا ہوں یہ دیکھتا ہوں کہ بلّی بڑی خاموشی سے بیٹھ کر اپنے حصہ کا انتظار کر رہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی وہ آنکھ پھاڑنے لگی اور آواز دینے لگی۔ میں دوبارہ کمرے میں واپس گیا، ٹفن کھولا اور اسکا رزق اسکو تھما دیا۔اب میں سوچ رہا ہوں کہ اس بلی کوکیسے پتہ چلا کہ میرے پاس کچھ بچا ہوا ہے جب کہ دروازہ پوری طرح بند تھاوہ پہلے کئی دنوں تک کیوں نہیں آئی؟ اور اتنے خاموشی سے انتظار کیوں کر رہی تھی؟ اور مجھے دیکھتے ہی چلانے کیوں لگی؟ اور اسکو یہ خیال کہ مرے دروازہ پے ہی رک کر انتظار کر نا ہے، کہاں سے آیا؟ اس کے پیچھے ضرور کوئی ہے جو یہ خیال ڈالتا ہے کہ کس کو کیا کرنا ہے اپنا رزق پانے کیلئے ۔اور اس طریقہ سے یہ بھی ان لمحات میں سے ایک لمحہ ہے جس میں میں رب کو پاتا ہوں۔
ا نسانوں کو خوش رکھتا ہے ۱۔اچھےلفظ سے مخاطب کرنا۔ ۲۔خیر خبر لینا۔ ۳۔ دعائیں دینا۔ ۴۔طوہین سے بچانا۔ ۵۔کھلانا پلانا۔ ۶۔انکی کمیوں کو ان سے اکیلے میں بتانا۔ ۷۔ ہدیہ دینا۔ جس حد تک آپ دوسروں کو خوش رکھین گے، اسی حد تک دوسرا بھی آپ کو خوش رکھنے کی کوشش کریگا۔ وہ خوش تو آپ خوش، جب دونو خوش تو اللہ خوش۔ اس کو سیکھتے رہنا چاہیے۔
Comments
Post a Comment