وہ عالم الغیب ہے۔ اس کو پہلے ہی اس بات کا علم ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ اب سنو میرے ساتھ ہوا واقعہ۔کافی دنوں کے بعداس بار میرے ٹفن میں کچھ حصہ بچ گیا تھاجو میں نہیں کھاتا ۔ اور وہ ضائع ہو جاتا۔مجھے کچھ خبر نہیں تھی کہ اس کا کیا کرنا ہے۔ جیسےہی دروازہ کھولتا ہوں یہ دیکھتا ہوں کہ بلّی بڑی خاموشی سے بیٹھ کر اپنے حصہ کا انتظار کر رہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی وہ آنکھ پھاڑنے لگی اور آواز دینے لگی۔ میں دوبارہ کمرے میں واپس گیا، ٹفن کھولا اور اسکا رزق اسکو تھما دیا۔اب میں سوچ رہا ہوں کہ اس بلی کوکیسے پتہ چلا کہ میرے پاس کچھ بچا ہوا ہے جب کہ دروازہ پوری طرح بند تھاوہ پہلے کئی دنوں تک کیوں نہیں آئی؟ اور اتنے خاموشی سے انتظار کیوں کر رہی تھی؟ اور مجھے دیکھتے ہی چلانے کیوں لگی؟ اور اسکو یہ خیال کہ مرے دروازہ پے ہی رک کر انتظار کر نا ہے، کہاں سے آیا؟ اس کے پیچھے ضرور کوئی ہے جو یہ خیال ڈالتا ہے کہ کس کو کیا کرنا ہے اپنا رزق پانے کیلئے ۔اور اس طریقہ سے یہ بھی ان لمحات میں سے ایک لمحہ ہے جس میں میں رب کو پاتا ہوں۔
ہر انسان پیار کا بھوکا ہوتا ہے۔ جب تک لوگ پیار دیتے ہیں اور محبت سے پیش آتے ہیں دوستی مضبوط تر ہوتی جاتی ہے لیکن جب لوگ سیاست کرنا شروع کر دیتے ہیں تو دوستی بہت ہی کمزور اور نازک ہو جاتی ہے۔اب اسمیں صرف مقصد باقی رہ جاتا ہے، پیار کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور اسے دوستی نہیں مقصد پرستی کہتے ہیں۔
Comments
Post a Comment