Skip to main content

آپ کے قریب کے لوگ

 جب بھی آپ کسی لیول کی ترقی کریں گے تو آپ کے قریب کے لوگ  حاسد ہو جائینگے۔ اور دور کے لوگ آپ کے قریب آئیں گے۔آپ سے رشتہ استوار کرینگے دونوں ہی لوگ اچھے ہیں۔ ایک آپ کی ترقی کو سراہتے ہیں اور قریب آتے ہیں۔ اور دوسرے لوگ اپنے دل میں یہ بات مانتے ہیں کہ آپ ان سے اچھے ہیں لیکن وہ کمزور لوگ ہیں ان کو اپنے اندر اٹھنےوالے منفی خیالات پر قابو   نہیں ہوتا ہے۔ یہ دنیا ایسے ہی کام کرتی ہے  اور آپ کو برا نہیں ماننا چاہیے۔ آپ انہیں معاف کریں اور اپنی وسیع الظرفی کا اظہار کریں۔ 

Comments

Popular posts from this blog

آزمائشین

    کیا ہم اپنے زندگی  کی آزمائشوں میں کامیاب ہو پاتے ہیں؟    ۱۔ جب کسی  کی غیبت اور  چگلی کرنے اور الزام لگانے سے بچنے کی آزمائش  ہو۔      ۲۔جب شکایت نہ کرنے اور صبر کا دامن تھام لینے کی آزمائش ہو۔      ۳۔جب حسد سے بچنے اور محبت پر ٹکنے کی آزمائش ہو۔      ۴۔جب    جھوٹ سے بچنے اور سچے بنے رہنے کی آزمائش ہو۔      ۵۔جب غلاظت سے بچنے اور اپنے کام ، معاملات، جسم، ذہن اور جگہ کو صاف رکھنے کی آزمائش ہو۔      ۶۔جب عدل اور انصاف کر نے اور غیر جانبدار  ہونے کی آزمائش ہو۔      ۷۔ جب علم حاصل کرنے اور غلط طریقہ اختیار کر نے سے بچنے کی آزمائش ہو۔      ۸۔ جب اپبی عقل کو علم کے راستے پر چلانے اور نفس پرستی سے بچنے  کی آزمائش ہو۔

تقاضہ یہ ہے

   اگر رب کی ربوبیت کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ اپنے تمام مخلوقات کی تمام ضرورتوں کو تا قیامت پورا کرتا رہے تو بندہ  کی بندگی کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ رب کی تمام نعمتوں کے تمام استعمال پر تا حیات شکر کرتا رہےاور ہر وہ چیز  جس سے رب نے روکا ہےاسے چھوڑدے۔

وہ عالم الغیب ہے

   وہ عالم الغیب ہے۔  اس کو پہلے ہی اس بات کا علم ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ اب سنو میرے ساتھ ہوا واقعہ۔کافی دنوں کے بعداس بار میرے ٹفن  میں  کچھ حصہ بچ گیا تھاجو میں نہیں کھاتا ۔ اور وہ ضائع ہو جاتا۔مجھے  کچھ خبر نہیں تھی کہ اس کا کیا کرنا ہے۔ جیسےہی دروازہ کھولتا ہوں یہ دیکھتا ہوں کہ بلّی بڑی خاموشی سے بیٹھ کر اپنے حصہ کا انتظار کر رہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی وہ آنکھ پھاڑنے لگی اور آواز دینے لگی۔ میں دوبارہ کمرے میں واپس گیا،  ٹفن کھولا اور اسکا رزق اسکو تھما دیا۔اب میں سوچ رہا ہوں کہ اس بلی کوکیسے  پتہ  چلا کہ میرے پاس کچھ بچا ہوا ہے جب کہ دروازہ پوری طرح بند تھاوہ پہلے کئی دنوں تک کیوں نہیں آئی؟ اور اتنے خاموشی سے انتظار کیوں  کر رہی تھی؟ اور مجھے دیکھتے ہی چلانے کیوں لگی؟ اور اسکو یہ خیال کہ مرے دروازہ پے ہی رک کر انتظار کر نا ہے، کہاں سے آیا؟ اس کے پیچھے ضرور کوئی ہے جو یہ خیال ڈالتا ہے کہ کس کو کیا کرنا ہے اپنا رزق پانے کیلئے ۔اور اس طریقہ سے یہ   بھی ان لمحات میں سے ایک لمحہ ہے جس میں میں رب کو پاتا ہوں۔