انسان چاہے جتنی بھی کوششیں کرلے موت سے نہیں بچ سکتا لیکن موت سے پھر بھی بھاگتا ہے۔اگر وہ چاہے تو حسابِ آخرت کو آسان بنالے مگر اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتا۔زندگی کی ہر شے بدعنوانی سے پاک ہواور ہر امر کی ادائیگی میں خوفِ خدا ہو تو انشاءاللہ حساب آسان ہو جائےگا۔ورنہ حساب سے پہلے بھی ایک عذاب ہے جس کا نام قبر ہے اور وہاں سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
ہر انسان پیار کا بھوکا ہوتا ہے۔ جب تک لوگ پیار دیتے ہیں اور محبت سے پیش آتے ہیں دوستی مضبوط تر ہوتی جاتی ہے لیکن جب لوگ سیاست کرنا شروع کر دیتے ہیں تو دوستی بہت ہی کمزور اور نازک ہو جاتی ہے۔اب اسمیں صرف مقصد باقی رہ جاتا ہے، پیار کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور اسے دوستی نہیں مقصد پرستی کہتے ہیں۔
Comments
Post a Comment