ہر انسان پیار کا بھوکا ہوتا ہے۔ جب تک لوگ پیار دیتے ہیں اور محبت سے پیش آتے ہیں دوستی مضبوط تر ہوتی جاتی ہے لیکن جب لوگ سیاست کرنا شروع کر دیتے ہیں تو دوستی بہت ہی کمزور اور نازک ہو جاتی ہے۔اب اسمیں صرف مقصد باقی رہ جاتا ہے، پیار کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور اسے دوستی نہیں مقصد پرستی کہتے ہیں۔
جب ہم اللہ سے محبت کرتےہیں تو اللہ اپنی محبت کا امتحان بھی لیتاہے۔روکاوٹیں اس کثرت سے آتی ہیں کہ ہمارا اللہ کی طرف متوجہ ہونا مشکل ترین ہوجاتا ہے۔ اور اگر ہم کامیاب ہوتے ہو تو ایک پرسکون زندگی جینے کا لطف حاصل کرینگے۔ اللہ سے محبت نہ کرنے والوں کیلئے کوئی امتحان نہیں ہے ۔وہ دنیا کی الجھن میں پریشان رہتے ہیں۔کچھ دیر کے لئے کوئی چیز سکون دیگی اور پھر چلی جائیگی۔اور وہ ہمیشہ کسی نہ کسی چیز یا شخص کیلئے بیقرار اور بےچین رہےگا۔ یہ میری اپنی رائے ہے۔ آپ کے تجربات اس سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
Comments
Post a Comment