سب سے خوش نصیب مسلمان وہ ہے جو اس حالت میں رہے کہ موت بھی آجائے تو اسے کوئی غم نہ رہے۔اور وہ حالت ہے؛ علم، عبادت یا خدمت کی حالت حتٰی کہ ان مصروفیات کا مقصد رضائےالٰہی ہو۔اور اس کے اجر کی توقع انسان سے نہ ہو۔
ہر انسان پیار کا بھوکا ہوتا ہے۔ جب تک لوگ پیار دیتے ہیں اور محبت سے پیش آتے ہیں دوستی مضبوط تر ہوتی جاتی ہے لیکن جب لوگ سیاست کرنا شروع کر دیتے ہیں تو دوستی بہت ہی کمزور اور نازک ہو جاتی ہے۔اب اسمیں صرف مقصد باقی رہ جاتا ہے، پیار کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور اسے دوستی نہیں مقصد پرستی کہتے ہیں۔
Comments
Post a Comment