Skip to main content

سوچنا اور غوروفکر کرنا

 سوچنا اور غوروفکر کرنا بہت فائدہ مند بھی ہے اور نقصاندہ بھی۔جب ہم حال میں ہو رہے واقعات کے بارے میں سوچتے اور غور کرتے ہیں تو  کچھ نتیجہ پر پہونچتے ہیں لیکن جب ماضی کی یادوں میں کھو جاتے ہیں اور سوچنے لگتے ہیں تو دماغ کو تقویت ملتی ہے اور انسان کچھ بھی کر گزرتا ہے اور پھر دھیرے دھیرے ذہنی غلام بن جاتاہے جو انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

دنیاں میرے اندر

ایک دنیا ہے جس میں ہم رہتے ہیں اور دوسری دنیا ہے جو ہم میں رہتی ہے۔ دنیا دل لگانےکی جگہ نہیں ہے بلکہ استعمال کرنے کی جگہ ہے۔حصول دنیا جیسے ہی ضرورت سے زیادہ آ جاتی ہے اور  ہمارے اندر سمانے لگتی ہے اور ہم محو ہو جاتے ہیں۔اسکی مثال ایسے ہے۔ جیسے کشتی پانی میں۔جب تک کشتی پانی میں ہے تب تک وہ وقت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی ہے اور جیسے ہی پانی کشتی میں آجاتا ہے وہیں نیست و نابود ہو جاتی ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ ہم عام حالتوں میں تو اللہ سے غافل رہتے  ہی ہیں اور نماز کی حالت میں بھی اللہ کی یاد سے غافل ہو جاتے ہیں جبکہ مسجد میں تو کوئی دنیا سامنے نہیں ہوتی ہے۔وہ دنیا جو ہمارے دل و دماغ میں سما جاتی ہےبڑی ہی خطرناک دنیا ہے۔ اللہ اس سے ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین

Aqwale Richmind-Part 2

  پوسٹ نمبر۱:  حصولِ علم اور خدمتِ خلق یہ ایسی دو چیزیں ہیں جس کی محبت آپ کو آسمان کی بلندیوں تک پہونچا سکتی ہے۔ پوسٹ نمبر۲: آسانیوں کی گرہ کھولتے کھولتے زندگی کی شام ہو جاتی ہے۔ پوسٹ نمبر۳: انسان جس دن اللہ سے راضی ہو جاتا ہے اسی دن سے اس کو دائمی سکون حاصل ہونے لگتا ہے۔ پوسٹ نمبر ۴: وقت اور پیسہ اپنی جگہ بنا لیتے ہیں اگر اس کو سہی جگہ نہ لگایا جائے۔ پوسٹ نمبر ۵: جن کاموں کو کرنے میں اپنے نفس سے سب سے زیادہ لڑائی ہے انہی کاموں کو کرنے کے بعد سب سے زیادہ سکوں حاصل ہوتا ہے۔ پوسٹ نمبر ۶: جس قوم میں اچھے استاد کی کمی ہو جائے اس قوم کا ذوال لاحق ہے۔اچھے استاد سے ہی اچھی پیڑ ھی جنم لیتی ہے۔ پوسٹ نمبر۷: کہیں سے بھی مقصد میں دکھاوا شامل ہو جائے تو اس عمل کو چھوڑ دینے میں ہی بھلائی ہے۔ پوسٹ نمبر۸:  دنیا کا ہر جائز پیشہ عبادت ہے اگر اسکے جزا کی توقع خدا سے ہو۔ پوسٹ نمبر۹: اگر انسان اپنے علم سے خدا کونہ پہچان سکے تو اس کا علم ناقص ہے۔ پوسٹ نمبر ۱۰: جس خدا نے نعمتیں دی ہیں۔وہ چھیں لینے کا بھی حق رکھتاہے۔نا ہی پانے کی وجہ پتا تھی تجھکو اور نا ہی چھین جانے کی ۔ اسی لیئے غم کرنا بے سود...

مالی تنگدستی

   مالی تنگدستی کو لوگ بہت بڑی پریشانی سمجتے ہیں جب کہ پریشانیوں کے اس مرکز’ جسم‘ میں لا محدود پریشانیاں جنم لیتی ہیں جو پیسہ کے مدد سے ختم نہیں کی جا سکتی ہیں اور یہ بات پیسہ والے خوب جانتے ہیں۔