Skip to main content

سوچنا اور غوروفکر کرنا

 سوچنا اور غوروفکر کرنا بہت فائدہ مند بھی ہے اور نقصاندہ بھی۔جب ہم حال میں ہو رہے واقعات کے بارے میں سوچتے اور غور کرتے ہیں تو  کچھ نتیجہ پر پہونچتے ہیں لیکن جب ماضی کی یادوں میں کھو جاتے ہیں اور سوچنے لگتے ہیں تو دماغ کو تقویت ملتی ہے اور انسان کچھ بھی کر گزرتا ہے اور پھر دھیرے دھیرے ذہنی غلام بن جاتاہے جو انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

خوش رکھتا ہے

  ا نسانوں کو خوش رکھتا ہے ۱۔اچھےلفظ سے مخاطب کرنا۔ ۲۔خیر خبر لینا۔ ۳۔ دعائیں دینا۔ ۴۔طوہین  سے بچانا۔ ۵۔کھلانا پلانا۔ ۶۔انکی کمیوں کو ان سے اکیلے میں بتانا۔ ۷۔ ہدیہ دینا۔ جس حد تک آپ دوسروں کو خوش رکھین گے، اسی حد تک دوسرا بھی آپ کو خوش رکھنے کی کوشش کریگا۔ وہ خوش تو آپ خوش، جب دونو خوش تو اللہ خوش۔ اس کو سیکھتے رہنا چاہیے۔

شرمگاہ سے

   تنہائی میں شرمگاہ سے اور محفل میں زبان سے گناہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔اور جو ان دونوں قسم کے  گناہوں سے بچ پائے گا ہمارے نبی نے اس کے جنّت کی ضمانت لی ہے۔دنیا بڑےآزمائش کی جگہ ہے جہاں ہر امتحان دنیے والے پر اللہ نے ۲ فرشتے مقرّر کر دئے ہیں جو امتحان حال سے باہر نہیں کرتے لیکن اللہ کے سامنے گواہی ضرور دیتےہیں۔

عقل کی پختگی کیا ہے؟

سوال: آپ کی نظر میں عقل کی پختگی (Maturity) کیا ہے؟ جواب: جب زندگی سے شکایت ختم ہو جائے اور اللہ کے فیصلوں کو  آپ کی عقل تسلیم کرنے لگے۔جب قدرت کے فیصلوں اور اسکے حکمت میں بھلائی نظر آنے لگے۔ جب توقعات کے بر عکس نتیجے پر صبر کرنا آسان ہو جائے تو سمجھ لیں کہ آپ کے اندر پختگی آگئی ہے۔