سوچنا اور غوروفکر کرنا بہت فائدہ مند بھی ہے اور نقصاندہ بھی۔جب ہم حال میں ہو رہے واقعات کے بارے میں سوچتے اور غور کرتے ہیں تو کچھ نتیجہ پر پہونچتے ہیں لیکن جب ماضی کی یادوں میں کھو جاتے ہیں اور سوچنے لگتے ہیں تو دماغ کو تقویت ملتی ہے اور انسان کچھ بھی کر گزرتا ہے اور پھر دھیرے دھیرے ذہنی غلام بن جاتاہے جو انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔
پیچھے رہنے کی سب سے بڑی وجہ ہے لذت یعنی نفسانی خواہشات ،اکثر ہم کسی نہ کسی خواہشات کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ سے غافل ہو جاتے ہیں۔اور اپنی کمیوں پر کام کرنے کے بجائےوقت برباد کر دیتے ہیں۔
Comments
Post a Comment