ہر دل کی ایک بھوک ہوتی ہے۔شاید یہ بھوک اللہ نے انسان کے دل میں اپنی جگہ بنانے کے لئے رکھی ہے اور یہی وجہ ہے جب انسان ہر جگہ سے ٹھکرایا جاتا ہےتو پھر اللہ کے حضور رجوع کرتا ہےاور دائمی سکون حاصل کرتا ہے۔جب انسان کسی شخص یا چیز کو پسند کر بیٹھتا ہے تو ہر لمحہ اسی کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہےجوکہ رہتی دنیا تک یہ ممکن نہیں ہے اور اسی لیے پریشان رہتا ہے۔ کوئی بھی چیز وقتی طور پر انسان کو دل کا سکون دے سکتی ہے اسکے بعد دوری اور بچینی میں اضافہ ہوتا ہے ا ور ہمیشہ پر سکون وہ لوگ رہتے ہیں جو اللہ سے لو لگاتے ہیں۔ جسے عشق حقیقی کہا جاتا ہے۔
ہر انسان پیار کا بھوکا ہوتا ہے۔ جب تک لوگ پیار دیتے ہیں اور محبت سے پیش آتے ہیں دوستی مضبوط تر ہوتی جاتی ہے لیکن جب لوگ سیاست کرنا شروع کر دیتے ہیں تو دوستی بہت ہی کمزور اور نازک ہو جاتی ہے۔اب اسمیں صرف مقصد باقی رہ جاتا ہے، پیار کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور اسے دوستی نہیں مقصد پرستی کہتے ہیں۔
Comments
Post a Comment