غور کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ میں نے سب کچھ حاصل کر لیا جو بچپن میں پانے کی تمنّا تھی اور نفس ابھی ویسا ہی سائل ہے جیسا پہلے تھا بلکہ حرص اور بڑھ گئی۔سکون تبھی ملتا ہے جب میں اس بھیکاری کو رب کے دروازے بھیجتا ہوں ۔میں نے تو تاحدِّ ضرورت سب کچھ دیا لیکن میں اس کی نفسانی خواہشات سے روبرو نہیں۔ اس کے نفس کی حد اس کا رب ہی جانتا ہے ۔اور یہ وہیں جا کر اس کو قرار ملتا ہے۔
ا نسانوں کو خوش رکھتا ہے ۱۔اچھےلفظ سے مخاطب کرنا۔ ۲۔خیر خبر لینا۔ ۳۔ دعائیں دینا۔ ۴۔طوہین سے بچانا۔ ۵۔کھلانا پلانا۔ ۶۔انکی کمیوں کو ان سے اکیلے میں بتانا۔ ۷۔ ہدیہ دینا۔ جس حد تک آپ دوسروں کو خوش رکھین گے، اسی حد تک دوسرا بھی آپ کو خوش رکھنے کی کوشش کریگا۔ وہ خوش تو آپ خوش، جب دونو خوش تو اللہ خوش۔ اس کو سیکھتے رہنا چاہیے۔
Comments
Post a Comment