Skip to main content

دنیاں میرے اندر

ایک دنیا ہے جس میں ہم رہتے ہیں اور دوسری دنیا ہے جو ہم میں رہتی ہے۔ دنیا دل لگانےکی جگہ نہیں ہے بلکہ استعمال کرنے کی جگہ ہے۔حصول دنیا جیسے ہی ضرورت سے زیادہ آ جاتی ہے اور  ہمارے اندر سمانے لگتی ہے اور ہم محو ہو جاتے ہیں۔اسکی مثال ایسے ہے۔ جیسے کشتی پانی میں۔جب تک کشتی پانی میں ہے تب تک وہ وقت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی ہے اور جیسے ہی پانی کشتی میں آجاتا ہے وہیں نیست و نابود ہو جاتی ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ ہم عام حالتوں میں تو اللہ سے غافل رہتے  ہی ہیں اور نماز کی حالت میں بھی اللہ کی یاد سے غافل ہو جاتے ہیں جبکہ مسجد میں تو کوئی دنیا سامنے نہیں ہوتی ہے۔وہ دنیا جو ہمارے دل و دماغ میں سما جاتی ہےبڑی ہی خطرناک دنیا ہے۔ اللہ اس سے ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین

Comments

Popular posts from this blog

تو سن لو

    تم سوچتے ہو کہ ایک دن تم بہت پڑھے لکھے جانکار اور کامیاب ہو جاؤ گے؟تو سن لو وہ دن کبھی نہیں آئے گا جب تک ہر دن تم اپنے اندر بدلاؤ نہ لاؤ  ، اپنے پر کام نہ کرو تو،،کچھ بہتر نہ بنو  ، علم اور ہنر میں اضافہ نہ کرو تو۔وہ دن کبھی نہیں آ نے والا۔ سن لو تم میری بات!