ہر لمحہ نظروں کے سامنے ہزاروں معجزات رونما ہوتے ہیں۔ مثلًا ہوائیں چلتی ہیں، موت آتی ہے، دل دھڑ کتاہے، سانس چلتی ہے،کھانا ہضم ہوتا ہے، کچھ پودھے زمین میں لگے ہوئے بڑے ہو رہے ہیں تو کچھ پانی میں اور کچھ ریت میں۔ انسان چلتا پھر تا بڑا ہو رہا ہے تو پہاڑ زمیں سے لگے ہوئے بڑے ہورہے ہیں۔جیسے نظام رزق چلتا ہےساری مخلوقات کا:انسان کے علاوہ کوئی کماتا نہیں ہے چاہے آبی جانورہو، یا خسکی کے جانور ہوں یا پھر فضاوں میں رہنے والے۔ایک نظام ہے جو خودبخود چلتا ہے۔ جو اللہ کا نظام ہے۔ جس پر انسان کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔اسی طریقہ سے دنیا میں جو کچھ ملنا ہے چاہے وہ جزا ہو یا سزا وہ ملکر رہے گا اسکا نظام خود بخود بنتا جائیگا۔اور یہ نظام گھڑی کی سوئی کی طرح اتنا سست ہے کہ ہر کوئی غورو خوض نہیں کر پاتا۔اسلئے انسان کو چاہیے کہ عارضی زندگی کے پیچھے اپنا وقت ضائع نہ کرے اور اصل اختیار اللہ نےجو انسانوں کو دیا ہے وہ دائمی زندگی سنوارنے پر دیا ہے۔
ا نسانوں کو خوش رکھتا ہے ۱۔اچھےلفظ سے مخاطب کرنا۔ ۲۔خیر خبر لینا۔ ۳۔ دعائیں دینا۔ ۴۔طوہین سے بچانا۔ ۵۔کھلانا پلانا۔ ۶۔انکی کمیوں کو ان سے اکیلے میں بتانا۔ ۷۔ ہدیہ دینا۔ جس حد تک آپ دوسروں کو خوش رکھین گے، اسی حد تک دوسرا بھی آپ کو خوش رکھنے کی کوشش کریگا۔ وہ خوش تو آپ خوش، جب دونو خوش تو اللہ خوش۔ اس کو سیکھتے رہنا چاہیے۔
Comments
Post a Comment