Skip to main content

محبت کا امتحان

جب ہم اللہ سے محبت کرتےہیں تو اللہ اپنی محبت کا امتحان بھی لیتاہے۔روکاوٹیں اس کثرت سے آتی ہیں کہ ہمارا اللہ کی طرف متوجہ ہونا مشکل ترین ہوجاتا ہے۔ اور اگر ہم کامیاب ہوتے ہو تو ایک پرسکون زندگی جینے کا لطف حاصل کرینگے۔ اللہ سے محبت نہ کرنے والوں کیلئے کوئی امتحان نہیں ہے ۔وہ دنیا کی الجھن میں پریشان رہتے ہیں۔کچھ دیر کے لئے کوئی چیز  سکون دیگی اور پھر چلی جائیگی۔اور وہ ہمیشہ کسی نہ کسی چیز یا شخص کیلئے بیقرار اور بےچین رہےگا۔ یہ میری اپنی رائے ہے۔ آپ کے تجربات اس سے مختلف ہو سکتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

آزمائشین

    کیا ہم اپنے زندگی  کی آزمائشوں میں کامیاب ہو پاتے ہیں؟    ۱۔ جب کسی  کی غیبت اور  چگلی کرنے اور الزام لگانے سے بچنے کی آزمائش  ہو۔      ۲۔جب شکایت نہ کرنے اور صبر کا دامن تھام لینے کی آزمائش ہو۔      ۳۔جب حسد سے بچنے اور محبت پر ٹکنے کی آزمائش ہو۔      ۴۔جب    جھوٹ سے بچنے اور سچے بنے رہنے کی آزمائش ہو۔      ۵۔جب غلاظت سے بچنے اور اپنے کام ، معاملات، جسم، ذہن اور جگہ کو صاف رکھنے کی آزمائش ہو۔      ۶۔جب عدل اور انصاف کر نے اور غیر جانبدار  ہونے کی آزمائش ہو۔      ۷۔ جب علم حاصل کرنے اور غلط طریقہ اختیار کر نے سے بچنے کی آزمائش ہو۔      ۸۔ جب اپبی عقل کو علم کے راستے پر چلانے اور نفس پرستی سے بچنے  کی آزمائش ہو۔

تقاضہ یہ ہے

   اگر رب کی ربوبیت کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ اپنے تمام مخلوقات کی تمام ضرورتوں کو تا قیامت پورا کرتا رہے تو بندہ  کی بندگی کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ رب کی تمام نعمتوں کے تمام استعمال پر تا حیات شکر کرتا رہےاور ہر وہ چیز  جس سے رب نے روکا ہےاسے چھوڑدے۔

وہ عالم الغیب ہے

   وہ عالم الغیب ہے۔  اس کو پہلے ہی اس بات کا علم ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ اب سنو میرے ساتھ ہوا واقعہ۔کافی دنوں کے بعداس بار میرے ٹفن  میں  کچھ حصہ بچ گیا تھاجو میں نہیں کھاتا ۔ اور وہ ضائع ہو جاتا۔مجھے  کچھ خبر نہیں تھی کہ اس کا کیا کرنا ہے۔ جیسےہی دروازہ کھولتا ہوں یہ دیکھتا ہوں کہ بلّی بڑی خاموشی سے بیٹھ کر اپنے حصہ کا انتظار کر رہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی وہ آنکھ پھاڑنے لگی اور آواز دینے لگی۔ میں دوبارہ کمرے میں واپس گیا،  ٹفن کھولا اور اسکا رزق اسکو تھما دیا۔اب میں سوچ رہا ہوں کہ اس بلی کوکیسے  پتہ  چلا کہ میرے پاس کچھ بچا ہوا ہے جب کہ دروازہ پوری طرح بند تھاوہ پہلے کئی دنوں تک کیوں نہیں آئی؟ اور اتنے خاموشی سے انتظار کیوں  کر رہی تھی؟ اور مجھے دیکھتے ہی چلانے کیوں لگی؟ اور اسکو یہ خیال کہ مرے دروازہ پے ہی رک کر انتظار کر نا ہے، کہاں سے آیا؟ اس کے پیچھے ضرور کوئی ہے جو یہ خیال ڈالتا ہے کہ کس کو کیا کرنا ہے اپنا رزق پانے کیلئے ۔اور اس طریقہ سے یہ   بھی ان لمحات میں سے ایک لمحہ ہے جس میں میں رب کو پاتا ہوں۔