Skip to main content

Posts

رزق

   اللہ جتنے لوگوں کو زمین پر پیدا کرتا ہے ان کا رزق بھی بھیجتا ہے تو   پھر لوگ بھوکے کیوں مرتے ہیں؟ اس سےظاہر ہے کہ قدرتی وسائل کی تقسیم صحیح نہیں ہے۔اور اسکے ذمہ دار زمین والے ہیں۔

بڑی وجہ ہے لذت

    پیچھے رہنے کی سب سے بڑی وجہ ہے لذت یعنی نفسانی خواہشات ،اکثر ہم کسی نہ کسی خواہشات کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ سے غافل ہو جاتے ہیں۔اور اپنی کمیوں پر کام کرنے کے بجائےوقت برباد کر دیتے ہیں۔

نفس ابھی ویسا ہی

  غور کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ میں نے سب کچھ حاصل کر لیا جو بچپن میں پانے کی تمنّا تھی اور نفس ابھی ویسا ہی سائل ہے جیسا پہلے تھا بلکہ حرص  اور بڑھ گئی۔سکون تبھی ملتا ہے جب میں اس بھیکاری کو رب کے دروازے بھیجتا ہوں ۔میں نے تو تاحدِّ ضرورت سب  کچھ دیا لیکن میں اس کی  نفسانی خواہشات سے روبرو نہیں۔ اس کے نفس کی حد اس کا    رب ہی  جانتا ہے ۔اور یہ وہیں جا کر اس کو قرار ملتا ہے۔

حقوق اللہ کا تقاضہ

   حقوق اللہ کا تقاضہ یہ  ہے کہ ہر وقت اللہ کو یاد کیا جائے اور اگر نہ ہو سکے تو کم سے کم پانچ وقت تو ضرور ہی یاد کرنا چاہیئے۔ اور اگر اس پانچ وقت میں بھی ہم کسی اور چیز کو یاد کرتے ہیں تو ہمیں بندے کہلانے کا کو ئی حق نہیں۔ جس کے لئے سجدہ ریز ہیں سجدے میں اسی کا خیال نہیں تو ایسے سجدے   سے    کچھ حاصل نہیں۔

موت سے نہیں بچ سکتا

   انسان چاہے جتنی بھی کوششیں کرلے موت سے نہیں بچ سکتا لیکن موت سے پھر بھی بھاگتا ہے۔اگر وہ چاہے تو حسابِ آخرت کو آسان بنالے مگر اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتا۔زندگی کی ہر شے بدعنوانی سے پاک ہواور ہر امر کی ادائیگی میں خوفِ خدا ہو تو انشاءاللہ حساب آسان ہو جائےگا۔ورنہ حساب سے پہلے بھی ایک عذاب ہے جس کا نام قبر ہے اور وہاں سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

دنیا نظروں کا ایک دھوکہ ہے

   دنیا نظروں کا ایک دھوکہ ہے۔ اس سے جتنا دل لگاؤ اتنا ہی اداسی حاصل ہوتی ہے۔اس کے اندر چھپی جتنی لذّ تیں ہیں سب اپنی جانب کھینچتی ہیں اور جو اس کے  طرف  راغب ہوا اسےاداسی ہاتھ لگتی ہے۔ تھوڑی لذّت کے لیئے آدمی دائمی زندگی کی فکر سے کافی دور چلاجاتا ہے۔اور وقتی تلذّذ کے بعد کافی پریشانی، بے  چینی و بےقراری کا احساس ہوتا ہے۔

شرمگاہ سے

   تنہائی میں شرمگاہ سے اور محفل میں زبان سے گناہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔اور جو ان دونوں قسم کے  گناہوں سے بچ پائے گا ہمارے نبی نے اس کے جنّت کی ضمانت لی ہے۔دنیا بڑےآزمائش کی جگہ ہے جہاں ہر امتحان دنیے والے پر اللہ نے ۲ فرشتے مقرّر کر دئے ہیں جو امتحان حال سے باہر نہیں کرتے لیکن اللہ کے سامنے گواہی ضرور دیتےہیں۔